ہمارا اثاثہ ہمارے ماں باپ 

ہمارا اثاثہ ہمارے ماں باپ 

             جب میں ان کے جھریوں والے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی ہوں تو ایک عجیب سا احساس جنم لیتا ہے میرا دل چاہتا ہے انھیں پھر سے ویسا ہی تندرست اور توانا  کردوں جیسے وہ پہلے تھے ۔ مجھے ان ہاتھوں کی گرمی ان ہاتھوں کی خوبصورتی اب بھی یاد ہے۔ اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں ماں باپ کے روپ میں بہت بڑی نعمت دی ہے۔ اپنی اولاد کو پروان چڑھانے کیلۓ ماں باپ اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی بھی قربان کردیتے ہیں ۔ لیکن جب ہم تھوڑے سے بھی بڑے ہوتے ہیں تو کتنے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ آپکو نہیں پتہ کہ آجکل کیا ہورہا ہے جبکہ وہ تو سب جانتے ہیں جو ہورہا ہے۔

           عید اور دوسرے تہواروں پہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر ہماری ہر خوشی ہر خواہش کو پورا کرنا تو جیسے ہمارے والدین نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے بچہ ایک دن یا ایک ہفتے میں بڑا نہیں ہوجاتا والدین کی پوری زندگی لگ جاتی ہے اولاد کو جوان کرنے میں وہ اپنی اولاد کو بڑا ہوتا پھلتا پھولتا دیکھتے  ہیں تو اپنی ہر تکلیف بھول جاتے ہیں اور جب اولاد بڑی ہوتی ہے تو اسے صرف اپنا آپ نظر آتا ہے کہ جو کچھ کیا ہے میں نے خود کیا ہے میں نے اپنی محنت سے پڑھ کر اپنا تابناک مستقبل بنایا ہے اگر میں محنت نہ کرتا تو اتنی ترقی کیسے کرتا والدین نے تو صرف پیسے لگاۓ ہیں اصل محنت تو میری ہے اولاد بھول جاتی ہے کہ اگر پیدا ہوتے ہی اسکا خیال نہ رکھا جاتا تو کیا وہ زندہ ہوتا اگر اسے اچھے اسکول میں نہ پڑھایا ہوتا تو کیا وہ آگے بڑھتا۔

       آجکل وہ زمانہ آگیا ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے آگے بولنے سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں چھوڑ کر چلاگیا تو جس بڑھاپے کے سکون کیلۓ اتنی محنت کی تھی ہمارا خیال کون رکھے گا۔

        ماں باپ کی قدر پوچھنی ہے تو اس سے پوچھو جس کا بچپن بغیر ماں یا بغیر باپ کے گزرا ہے وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کیلۓ کتنا ترسا ہے جب وہ دوسرے بچوں کو اپنے باپ کے ساتھ باہر ناز نخرے اٹھواتے دیکھتا تھا تو اس کو کیسا محسوس ہوتا تھا۔

       اللّٰہ تعالٰی نے ماں کو جنت اور باپ کو جنت کا دروازہ کہا ہے یہ ماں باپ ہی تو ہمارا اثاثہ ہیں یہ جب دنیا سے چلے جاتی ہیں تو دنیا اندھیر ہوجاتی ہے کچھ سجھاٸی نہیں دیتا ہر چھوٹی چھوٹی خوشی میں پھر ماں باپ یاد آتے ہیں لیکن افسوس کہ پھر ماں باپ نہیں آتے ہیں۔

       سب کے حقوق اپنی جگہ ہیں بیوی کے بھی اپنے حقوق ہیں انھیں بھی پورا کرنا چاہۓ یہ نہیں کہ اگر ماں باپ غلط ہوں اور ہمیں خود بھی پتہ ہوکہ وہ غلط بول رہے ہیں لیکن ہم بیوی کو غلط بولیں اور یہ بھی نہیں ہونا چاہۓ کہ ہمیں پتہ ہے کہ بیوی غلط بول رہی ہے یا غلط ڈیمانڈ کر رہی ہے لیکن ہم بیوی کی محبت میں ماں باپ کو غلط بولیں۔

        ہر رشتے کو اس کے مقا م پر رکھیں اسلام میانہ روی سکھاتا ہے اسلۓ کہ اس میں سب کے ساتھ برابری کا سلوک ہوتا ہے۔ اپنے والدین کو ٹاٸم دیا کریں ان کے مسٸلے سنا کریں ان کو حل کرنے کی کوشش کیا کریں جیسے انھوں نے آپکو لاڈ پیار سے پالا تھا ایسے ہی انکے بھی لاڈ اٹھایا کریں  ان شاء اللہ دنیا اور آخرت دونوں سنور جاٸیں گی آپکی۔

Related post

Pakistan’s Digital Dilemma: Unmasking the Staggering Gap Between Lunar Dreams and Ground Realities

Pakistan’s Digital Dilemma: Unmasking the Staggering Gap Between Lunar…

From Lunar Dreams to Digital Realities Pakistan’s leap into space with China, capturing lunar vistas, maybe a moment of national pride,…
BioticsAI: Humanity Meets Technology to Help Unborns

BioticsAI: Humanity Meets Technology to Help Unborns

Imagine a world where technology not only enhances our daily lives but also safeguards the most vulnerable among us, even before…
Big Brands Started with MVP: A Step-By-Step Guide to Build MVP

Big Brands Started with MVP: A Step-By-Step Guide to…

What Does MVP Mean Imagine you’re baking a cake for a party. The MVP (Minimum Viable Product) of your cake would…

2 Comments

  • Masha Allah, bohut he khob bayan kia hay ap ne sub kuch , waldain ka hum shukria adaa he nahe ker skty chahay kitna he kuch kyu na krly un k kea.

  • Kia baat h

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *