• 17 June 2022
  • No Comment
  • 178

گیس لائٹنگ

گیس لائٹنگ

کسی ادارے یا جگہ کا انتظام چلانے کے لئے چند ایک اشخاص کو اپنا پابند بنانا ضروری ہوتا ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے اصول ہمارے ماتحت اپنائیں تاکہ انتظام کار اچھی طرح چل سکے لیکن کیا ہوا اگر اپنی مرضی سے کسی کو چلانے کی صورت اپنی حدود کو پار کرنے لگے۔
ہر قسم کے تعلقات میں چاہے وہ تعلقات گھرکے ہوں جن میں میاں بیوی ،بھائی بہن والدین اور اولاد ،ساس بہو، نند بھاوج وغیرہ یا پھر آفس میں عہدیداروں اور ماتحتوں کے ہوں یا ساتھی کارکنوں کے تعلقات ہوں یا کسی اور کام کی جگہ پر کسی بھی قسم کے تعلقات ہوں اگر ایک شخص کسی دوسرے شخص کو حد سے زیادہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرے اور اسے اپنے اشاروں پر چلانے کی کوشش کرے یہاں تک کہ دوسرے شخص کی آزادی رائے مجروح ہو اور وہ ایک کٹھ پتلی بن کر رہ جائے” گیس لائٹنگ “کہلاتا ہے۔
گیس لائٹنگ کیا ہے؟
گیس لائٹنگ میں ایک شخص پیار و محبت کا دکھاوا کرکے دوسرے شخص کا اعتماد حاصل کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ متعلقہ شخص اس کی مرضی کے بالکل عین مطابق چلے اس کام کو انجام دینے کے لیے وہ متعلقہ شخص کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کرنے کی کوشش کرتا ہے اس شخص کو اپنے حواس کے متعلق اس وہم میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے حواس ٹھیک سے کام نہیں کر رہے اس کا حافظہ ٹھیک نہیں ہے اور جو اس کو گیس لائٹر کہہ رہا ہے بس وہی بات ٹھیک ہے۔
اس رویہ کا نام کیس لائٹنگ کیوں پڑا؟
اس رویے کو گیس لائٹنگ کا نام 1938 میں بننے والی اس فلم کی بنا پر دیا گیا۔ اس فلم کا نام گیس لائٹنگ تھا جس میں ایک شخص اپنی بیوی کو اس قسم کے رویے کا شکار بناتا ہے۔ جو واقعات وہ خود سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کرتا ہے ان واقعات کا مورد الزام اپنی بیوی کو قرار دیتا ہے۔ اصل میں وہ اپنی بیوی کو اس بات کا یقین دلا رہا ہوتا ہے کہ اس کی بیوی پاگل ہو رہی ہے۔
گیس لائٹر کی خصوصیات
گیس لائٹنگ کرنے والا یا گیس لائٹر وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے شکار بننے والے کی شخصیت کو کبھی تسلیم نہیں کرتا اس کی آزادی راۓ کو چھیننے کی کوشش کرتا ہے ۔ اپنے شکار کے دوسرے تعلقات اور روابط کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ صرف اسی کے تعلق میں ہو اور کنٹرول میں آسانی ہو ۔ اپنے شکار کو اس چیز کا یقین دلاتا ہے کہ اس کے ساتھ جو بھی واقع ہو رہا ہے اس کا یقین کوئی نہیں کرے گا اور سب اس کا یقین کریں گے گیس لائٹر اپنے شکار کو حقیقت کے متعلق وہم و گما ن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ کبھی اپنی غلطی قبول نہیں کرتا اور فطرتاً جھوٹا اور مکار شخص ہوتا ہے لوگوں کے سامنے اچھا ہونے کا دکھاوا کرتا ہے اور دھوکہ دینا اور دوسری کمزوریوں سے ان کو تکلیف پہنچانا اس کی شخصیت کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دوسروں پر کنٹرول حاصل کرنے کا جنون ہوتا ہے ۔ان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے۔ یہ اپنے شکار کو الٹے سیدھے پیغامات کے ذریعے الجھا کراس کی الجھن سے فائدہ اٹھانا اسکی بہت بڑی خصوصیت ہے۔ایسےشخص کو اپنے علاوہ کسی سے بھی لگاؤ نہیں ہوتا اور دوسروں سے یہ پوری وفا داری کا مطالبہ کرتا ہے۔
گیس لائٹی کون سے شخص ہوتے ہیں؟
ایسا شخص جو گیس لائٹنگ کے رویہ کا شکار ہوتا ہے اس کو گیس لائٹی کہا جاتا ہے۔ گیس لائٹی اکثر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بہت سادہ لوح ہوں جن کی ذہنیت میں مکر و فریب جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ بہت جلد سب پر بھرو سہ کر لیتے ہیں اور اپنے تعلق میں رہنے والے شخص سے محبت اور اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔ان کو اپنے نفع اور نقصان کا کوئی ڈر نہیں ہوتا اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنے جیسی ذہنیت کا مالک سمجھتے ہیں۔
کن تعلقات میں گیس لائٹنگ وقوع پذیر ہوتی ہے؟
گیس لائٹنگ سب سے زیادہ قریبی اور ان تعلقات میں وقوع پذیر ہوتی ہے جن تعلقات پر ہم سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں ایسے کیسز میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک کی گیس لائٹنگ میں ملوث ہوتا ہے۔ آپ نے اکثر عورتوں اور مردوں کو عامل بابا اور جادو ٹونہ کرنے والوں کے پاس جاتے ہوئے دیکھا ہو گا جو اپنے محبوب کو قابو کرنے کے لیے تعویذ گنڈے کرواتے ہیں۔ یہ سب گیس لائٹنگ کے ہی پہلو ہیں انتظار حسین کا افسانہ کایا کلپ بی گیس لائٹنگ کی ایک بہترین مثال ہے ۔مذکورہ افسانے میں ایک شہزادی اپنی محبت میں گرفتار ایک جنگجو اور بہادر شہزادے جس کا نام آزاد بخت ہوتا ہے اس کو اپنی بہادری اور شجاعت کے متعلق وہم میں مبتلا کر دیتی ہے اس کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ وہ اپنے حریف سے مقابلہ نہیں کر پاۓ گا لہٰذا وہ روزانہ اس کو عمل پڑھ کر ایک مکھی بنا دیتی ہے۔ یہ عمل وہ تب تک جاری رکھتی ہے حتی کہ ایک دن شہزادہ عمل پڑھے بغیر ہی مکھی بن جاتا ہے۔ اسی طرح والدین یا اولاد میں سے کوئی ایک بھی گیس لائٹنگ کا رویہ اختیار کرتا ہے ہم نے اکثر اس طرح کے والدین دیکھے ہیں جو اپنی اولاد کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں اور ان کا استحصال ان کی اولاد کر رہی ہوتی ہے اور اکثر ایسی اولاد بھی دیکھی ہے جو اپنے والدین پر اندھا یقین کر رہے ہوتے ہیں اور اس طرح گیس لائٹنگ کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح ایک ڈرامہ یاد ہے جس میں ایک ماں اپنے بیٹے کو اپنے دودھ نہ بخشنے کا واسطہ دے دے کر اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح کام کرنے کی جگہوں پر عہدیدار اپنے کسی ماتحت کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا کر رکھتا ہے ۔ مختصر یہ کہ گیس لائٹنگ کا رو یہ بہت ہی قریبی تعلقات میں پایا جاتا ہے۔
گیس لائٹنگ کی نشاندہی اور اس کا سد باب
کچھ ایسے خاص قسم کے جملے یا فقرے جو آپ کسی خاص شخص سے بار بار سنتے ہیں جیسے کہ اگر کوئی آپ سے کہے کہ ایسا تو کچھ نہیں ہے جب کہ آپ کو پتہ ہو کہ ایسا ہوا ہے یا آپ سے کوئی کہے کہ تمہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو یا کیا کہہ رہے ہو جب کہ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ آپ کو کوئی کہے کہ آپ کو فلاں چیز کے متعلق وہم ہے جب کہ آپ کو کسی قسم کا کوئی وہم نہ ہو۔ آپ سے کوئی سخت بات کہی جائے اور پھر یہ کہہ کر معذرت طلب کر لی جائے کہ کہی جانے والی بات مذاق میں کہی گئی تھی
مندرجہ بالا تمام باتیں گیس لائٹنگ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ گیس لائٹنگ میں گیس لائٹی ہمیشہ نا خوش گوار واقعات کا سامنا کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے بارے میں سو الیہ نشان بنا رہتا ہے۔ اسے اپنے فیصلے لینے میں بے حد دشوار ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ نا خوش اور منتشر محسوس کرتا وہ ایسے تعلق میں گھٹن محسوس کرتا ہے ۔جب اس طرح کا ماحول محسوس کیا جا سکے تو اس کو گیس لائٹنگ کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے ماحول سے بچنا بےحد ضروری ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات ضروری ہے کہ پرسکون رہا جائے اور اپنے حواس پر بھرو سہ کیا جاۓ اور اپنے جذبات یعنی غم و غصے اور رونے دھونے سے گریز کیا جائے کیوں کہ جذبات کا بر ملا اظہار کرنا گیس لائٹر کو اور مضبوط بنا دیتا ہے۔ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جائیں کسی فریق ثالث کے سامنے اپنی حالت اور اپنے ساتھ پیش آنے والے رویہ کا اظہار کیا جائے ۔دوسروں کو اپنا گواہ بنایا جائے تاکہ اپنے ساتھ کیے جانے والے رویے کی نشاندہی دوسرے لوگ کر سکیں۔
بے شک گیس لائٹنگ کا رویہ عام طور پر اتنا واضح دکھائی نہیں دیتا یہاں تک کہ کبھی کبھی گیس لائٹی خود کو بھی اس بات کا احساس نہیں ہوتا لیکن یقین مانیں کہ ذہنی تشدد کی یہ شکل بہت سنگین ہوتی ہے۔ اس رویہ سے گیس لائٹی کی شخصیت دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور پھر اس کے تعلق میں جو دوسرے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں تو اس کا ادراک بہت کم لوگوں کو ہے پر مغربی ممالک میں اس طرح کے رویوں کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے ۔وہاں یہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ جسمانی تشدد کی طرح ذہنی تشدد کو بھی ایک جرم قرار دیا جا سکے اور اس کے لئے بھی سزائیں مقرر کی جائیں جا سکیں۔

Related post

Pakistan’s Digital Dilemma: Unmasking the Staggering Gap Between Lunar Dreams and Ground Realities

Pakistan’s Digital Dilemma: Unmasking the Staggering Gap Between Lunar…

From Lunar Dreams to Digital Realities Pakistan’s leap into space with China, capturing lunar vistas, maybe a moment of national pride,…
BioticsAI: Humanity Meets Technology to Help Unborns

BioticsAI: Humanity Meets Technology to Help Unborns

Imagine a world where technology not only enhances our daily lives but also safeguards the most vulnerable among us, even before…
Big Brands Started with MVP: A Step-By-Step Guide to Build MVP

Big Brands Started with MVP: A Step-By-Step Guide to…

What Does MVP Mean Imagine you’re baking a cake for a party. The MVP (Minimum Viable Product) of your cake would…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *