جدید تعلیم اور شرح طلاق و تفریق

جدید تعلیم اور  شرح طلاق و تفریق

 انسانی معاشرہ موجودہ دور میں جس مقام پر ہے یہ سب یکایک نہیں ہو گیا۔ انسان مختلف قسم کے ارتقا ئی ادوار کی منازل طے کرنے کے بعد اس دور میں داخل ہوا ہے ۔جب سے انسان کی تخلیق کی گئی وہ مسلسل تگ و دو کر کے اپنے علم و شعور میں اضافہ کرکے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اس دور میں پہنچا ہے۔ انسانی معاشرے کی ترقی کا یہ سفر صدیوں پر محیط ہے جب انسان نے شعور حاصل کیا اس کے سامنے اچھے اور برے کا فرق واضح ہوتا گیا اور اس کی سوچ میں تبدیلی آتی گئی۔ علم وشعوراور  تعلیم وآگہی کا مقصد ہی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا ہے لیکن کیا کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حصول تعلیم سوچ پر منفی اثرات مرتب کرے۔

 مرد اور عورت کا شادی کر کے کنبے کو تشکیل دینے سے صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ ایک کنبے کو بے شک معاشرے کی اکائی تصور کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی یہ  اکا ئیاں جتنی پھلتی پھولتی ہوں گی اتنا ہی بہتر معاشرہ وجود میں آئے گا۔ جب ایک مرد اور ایک عورت شادی کرتے ہیں تو بہت سے برے کاموں اور بے حیائی سے بچ جاتے ہیں معاشرے میں بگاڑ کا امکان کم ہو جاتا ہے وہ بچےپیداکرکے ان کی بہتر تعلیم و تربیت کرکے معاشرے کو با شعور افراد مہیا کرتے ہیں جو کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں جاکر ملک کی ترقی کا باعث بنتے ہیں لیکن یہ سب تب ممکن ہوتا ہے جبکہ شادی شدہ افراد کی اپنے شریک حیات کے ساتھ بہتر تعلقات ہوں۔ بعض عناصر کی وجہ سے اگر یہ تعلقات خراب ہونے لگ جائے اور خراب ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت آجائے کہ بات طلاق تک پہنچ جائے تو اس کو معاشرے میں بگاڑ کی صورت تصور کیا جائے گا۔ جیسے جیسے انسان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور اس کے علم میں اضافہ ہو رہا ہے یہ دیکھا گیا ہے کہ معاشرے میں طلاق تفریق کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ جبکہ تعلیم تو مثبت تبدیلی کا نام ہےاورایک شادی  شدہ جوڑے کی تفریق معاشرے کا بگاڑ ہے ۔اگر ہم یورپ کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھیں تو جب معاشرہ ترقی پذیر تھا  تب طلاق کا رجحان کم تھا لوگ برداشت اور صبر کے عادی تھے اور اپنے اپنے ازدواجی تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتے لیکن جیسے ہی یورپ میں ترقی ہوئی جدید تعلیم کا دور شروع ہوا وہیں طلاق اور تفریح کا رجحان بھی بڑھتا گیا اور بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچا کہ طلاق لینے کے لیے وکلا کم پڑ گئے اور ایسی مشین ایجاد کرلی گئی جو کے طلاق کے مقدمات کو حل کرنے لگی

 یہی حال ہمارے معاشرے کا بھی ہے برصغیر پاک و ہند وہ خطہ ہے جہاں معاشرتی اقدار کو دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی یہاں کے لوگ قرابت داروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور رشتوں کو نبھانے پر یقین رکھتے ہیں ہندو معاشرے میں تو عورت اپنے خاوند کے انتقال کے بعد اس کے ساتھ جل جانے کو ترجیح دیتی تھی جس کو رسما ” ستی” کا نام دیا گیا تھا اور اگر عورت ستی نہیں ہوتی تھی تو صرف برائے نام ہی جیتی تھی زندگی کی تمام آسائشیں ہی چھوڑ دیتی تھی اور طلاق  کا تصور ہندو معاشرے میں ناپید تھا۔ یہی حال ہمارے مسلم معاشرے کا بھی ہے ہمارے اسلامی معاشرے میں تو طلاق کا نام لینا بھی مطلق حرام ہے اور اسلامی تعلیمات طلاق کو ایسا جائز عمل قرار دیتی ہے جو اللہ تعالی کی نظر میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے

 اس قسم کے معاشرے میں جب تعلیم کا سلسلہ عام ہوا اور لوگ اسکولوں اور کالجوں سے سند یافتہ ہونے لگے تو وہ اقدار جو ہمارا قیمتی اثاثہ تھی ان کی حیثیت ردی کے کاغذ جیسی ہو گئی۔ لوگ پڑھے لکھے ہو گئے  تو ان میں رشتے نبھانے کا گر جاتا رہا آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبہ آخر اپنی روایات کو کیوں برا سمجھتے ہیں  ان کے لیے رشتوں کو نبھانا محال ہو گیا ہے کیا یہ جدید تعلیم کا قصور ہے کہ معاشرے میں طلاق کا چلن عام ہو رہا ہے اس خیال کے متعلق ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

 جدید تعلیم  یا سائنسی تعلیم  ایسی تعلیم ہے جو کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے تحت الثری سے لے کر اوج ثر یا  کی کھوج لگا تی ہے لیکن افسوس صد افسوس اخلاقیات اور قیمتی روایات کی پاسداری کرنا نہیں سکھاتی جدید تعلیم اخلاقیات کی تربیت دینے سے قاصر ہے یہ تعلیم ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کر کرتی ہے لہذا طالب علم کالج یونیورسٹی سے فارغ ہو کر ترقی حاصل کرنے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے جس کے بعد اس کے لیے رشتے نبھانا مشکل ہو جاتا ہے جدید تعلیم نے تنگ نظری کا خاتمہ کرکے سوچ میں وسعت پیدا کر دی ہے یہ انسان کی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے جدید تعلیم معاشرے کو ایسے افراد مہیا کر رہی ہے جو کھلے ذہن کے مالک ہیں لیکن اخلاقیات اور روایت کی پیروی کرنے کے لئے کبھی کبھی لکیر کا فقیر بھی بننا پڑتا ہے یہی وسعت النظری کبھی کبھی رشتے نبھانے میں لوگوں کو ناکام کر دیتی ہے۔

 جدید تعلیم خصوصاً تجارت کی تعلیم مادی نفع نقصان کی تعلیم  دیتی ہی  یعنی کوئی ایسا عمل  جس چیز میں مادی نفع ہے اس کو اختیار کر لیا جائے اور جس میں مادی نقصان  ہے اس کو ترک کر دیا جائے اخلاقیات اور روایت کی پیروی بیشک مادی نقصان کا سبب ہو لیکن یہ معاشرے کی فلاح کا سبب بنتی ہے تعلیم جدید نے صنف نازک کو تعلیم حاصل کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے مساوی مواقع  فراہم کیے ہیں  عورت بھی اب مختلف قسم کے شعبوں میں اپنا کیریئر بنا سکتی ہے کیریئر بنانے اور ترقی حاصل کرنے کی اس دوڑ میں اس کام کا نبھانا بہت ہی مشکل ہو گیا جو کہ اس کا بنیادی کام تھا یعنی کہ گھر داری۔  اب عورت گھر داری کرے یا پھر آپ پھر اپنا کیریئر بنائے لہذا اسے اول الذ کر کو ترک کرنا پڑتا ہے۔

 قدیم تعلیم کا نصاب استاد مرکز ہوا کرتا تھا جس میں استاد کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی تمام طالب علم اس کی پیروی کرتے تھے اس کے بیانات  سننے پر توجہ دیتے تھے علم کا منبع اور ماخذ  استاد ہوتا تھا اور وہ  طالب علموں کو جو سکھاتا تھا ان کو اسی طرح سے سیکھنا ہوتا تھا بے شک یہ  طریقہ تعلیم بہت سی خامیوں کا شکار تھا لیکن  اجتماعیت کو فروغ دیتا تھا لیکن موجودہ دور کا نصاب  طالب علم مرکز ہے جس میں طالب علم کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے استاد صرف ایک ہدایتکار یا انسٹرکٹر کی حیثیت رکھتا ہے طالبعلم کی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجا گر کر کے اس کی بات سنی جاتی ہے گویا تجربات کرکے سیکھنے کو ترجیح دی گئی ہے اس قسم کا نصاب انفرادیت کو توجہ دیتا ہے غرض کے ایسے ذہن پیدا کرتا ہے جو لرننگ بائے ڈوئنگ کے ذریعے سیکھتے  ہیں جو کہ انسان کو سلف سینٹر یا خود کو مرکز بنا دیتا ہے ایسے افراد اخلاقیات اور روایات کی پیروی نہیں کر سکتے اور اس صورت میں رشتوں کو نبھانا مشکل اور بسا اوقات ناممکن ہو جاتا ہے کیونکہ  رشتہ نبھانے کے لئے دوسروں کی پسند نا پسند کو ترجیح دینا پڑتی ہے علاوہ ازیں اس طریقہ تعلیم میں استاد کی حیثیت جس طرح سے ان کی نظر میں صرف ایک ہدایت کار کی ہوتی ہے یعنی کہ ان کی بات مانی جائے یا نہ مانی جائےاس رویہ کے تحت حقیقی زندگی میں اپنے بڑوں کی بات کو قبول کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے بے شک جدید تعلیم نے انسان کے لیے ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے ہیں لیکن یہ نظام تعلیم بھی بہت سے خامیوں کا شکار ہے۔

Related post

Pakistan’s Digital Dilemma: Unmasking the Staggering Gap Between Lunar Dreams and Ground Realities

Pakistan’s Digital Dilemma: Unmasking the Staggering Gap Between Lunar…

From Lunar Dreams to Digital Realities Pakistan’s leap into space with China, capturing lunar vistas, maybe a moment of national pride,…
BioticsAI: Humanity Meets Technology to Help Unborns

BioticsAI: Humanity Meets Technology to Help Unborns

Imagine a world where technology not only enhances our daily lives but also safeguards the most vulnerable among us, even before…
Big Brands Started with MVP: A Step-By-Step Guide to Build MVP

Big Brands Started with MVP: A Step-By-Step Guide to…

What Does MVP Mean Imagine you’re baking a cake for a party. The MVP (Minimum Viable Product) of your cake would…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *